فلک کے ستارے میری بات سن!
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiفلک کے ستارے میری بات سن!
سخن کی زباں میں کچھ الفاظ بن!
کیا تو نے ہے دیکھی وہ نازک پری؟
جو دیکھی تو ہے تیری قسمت بڑی!
کیا اس نے تجھ سے کبھی بات کی؟
بتائی کوئی بات میری ذات کی؟
ہوا کے جھونکے بتا تو مجھے!
اس کے نگر میں ملا کیا تجھے؟
کیا چہرے سے اس کے ہٹائے تھے بال؟
کیا ہے اس کا ویسا ہی رعب و جمال؟
مجھے تیری قسمت کا ارمان ہے!
شب و سحر تو اس کا مہمان ہے!
چندا تجھے کیسے چھوڑوں گا میں؟
تیرے راز سارے جھنجھوڑوں گا میں!
کیا تیری چاندنی تجھ کو مدہم لگی؟
رخِ یار سے ہے بہت کم لگی؟
کیا تجھ کو بھی اس نے کہا کچھ کبھی؟
جو باتیں کہی تھی بتا کچھ ابھی!
تجھے تو وہ دکھتا ہے شام و سحر،
تری دسترس میں ہے اس کا شہر،
مجھے تجھ سے کچھ کچھ حسد ہوچلی،
نہیں دسترس میں میری وہ گلی!!!
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






