غَم کی دِیوار گِرانے کو نہیں آتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiغَم کی دِیوار گِرانے کو نہیں آتا ہے
مُجھے کوئ اَپنا بَنانے کو نہیں آتا ہے
رات گۓ تَک تو مَیں دَروازے کُھلے رَکھتا ہوں
کوئ دِل کو ہی چُرانے کو نہیں آتا ہے
ایسا تَنہائ کا عالم ہے کے جِینا ہے محال
کوئ کَمبَخت سَتانے کو نہیں آتا ہے
کبھی دو گُھونٹ ذہر کے ہی پِلا دے مُجکھو
رَحم اِتنا بھی زَمانے کو نہیں آتا ہے
ایسا بَدلا ہے وہ غَیروں کی بَغل میں رہ کر
صِرف چہرہ ہی دِکھانے کو نہیں آتا ہے
غَیر کی بَزم میں جاتا ہے خُوشی سے لیکن
حوصلہ میرا بَڑھانے کو نہیں آتا ہے
چَلو میری اُسے پروا جو نہیں ہے تو نہ ہو
حال اَپنا بھی سُنانے کو نہیں آتا ہے
کیسے مانُوں کے وہ اَب تَک ہی مُجھے چاہتا ہے
اَپنا حَق بھی تو جَتانے کو نہیں آتا ہے
بےحِسی اُس کی یہ باقرؔ ذرا دیکھو تو سہی
میں جو رُوٹھا ہوں مَنانے کو نہیں آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






