غم کی ڈھلتی ہے کبھی رات تو دکھ ہوتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاغم کی ڈھلتی ہے کبھی رات تو دکھ ہوتا ہے
مری آنکھوں سے ہو برسات تو دکھ ہوتا ہے
مجھ کو یہ جیت کا عالم تو گوارہ ہی نہیں
اس کو ہو جائے کبھی مات تو دکھ ہوتا ہے
میرا ہرجائی وفاؤں کا خزانہ لے کر
پھر بھی کرتا ہے شکایات تو دکھ ہوتا ہے
پہلے کر کے وہ مرے ساتھ کوئی عہد وفا
اس کا پکڑے جو کبھی ہاتھ تو دکھ ہوتا ہے
وہ مری آنکھ کا تارہ ہے تو ٹھہرے مجھ میں
وہ بچھڑ جائے کسی رات تو دکھ ہوتا ہے
میرا دشمن وہ مرے ساتھ جفائیں کرکے
لے جو ہاتھوں میں ترا ہاتھ تو دکھ ہوتا ہے
ٹوٹے حسرت کا منارہ تو کوئی فکر نہیں
وشمہ ٹوٹے جو کبھی ذات تو دکھ ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






