غم حیات سے کچھ پل چرا کے دیکھیں گے
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknowغم حیات سی کچھ پل چرا کے دیکھیں گے
اراد تا بھی کبھی مسکرا کے دیکھیں گے
وہ سج سنور کے ابھی مسکرا کے دیکھیں گے
قسم یہ کھائ ھے بجلی گرا کے دیکھیں گے
کرا دیں خود سے وہ دیدار ورنہ کہہ دیجے
ہم اپنے ہاتھ سے گھونگھٹ ہٹا کے دیکھیں گے
ابھی جو لگتے ہیں مصروف دنیا داری میں
ذرا ہی دیر میں نظریں بچا کے دیکھیں گے
ملے گا کوئ چاہنے والا - یہ جاننے کے لئے
وہ اپنے ہاتھ میںمنھدی لگا کے دیکھیں گے
سماؤ یا نہ سماؤ ہماری بانہوں میں
تمھاری بامہوں میں ہم تو سما کے دیکھیں گے
نہ روک پائے گا دیدار یار سے کوئ
زمانے بھر کو حسن ہم دکھا کے دیکھیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






