غزل
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیپیکر تھا وَفاؤں کا جَفا دینے لگا ہے
کیوں اپنے وہ ماضی کو دَغا دینے لگا ہے
اک دوست بنایا تھا جو دُنیا سے جُدا سا
اوروں سے وہ دُکھ بھی تو جُدا دینے لگا ہے
اُس نے جو مرے نام کی تنہائ کی ذلت
کس جُرم کی وہ مُجھکو سَزا دینے لگا ہے
حالات سے مَجبُور ہے اندھا بھی بےچارہ
جو بھیک کی بہروں میں صَدا دینے لگا ہے
وہ کیسے بَھلا چھوڑ دیں پتھر کی عبادت
رزق اُن کو جو مندر میں خُدا دینے لگا ہے
اَب تو مُجھے دُنیا سے اُٹھا لے مرے مولٰی
ہر شخص جو مَرنے کی دُعا دینے لگا ہے
کُچھ دُور نہیں سَر ہو سَناں پر ترا باقرؔ
مَنصُور کے حق میں جو صَدا دینے لگا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






