غزل کسی اپنے کے نام
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiایک بسمل، ایک زخمِ دل ہی ساتھ اپنا رہا،
عمر بھر یہ درد ہی سرمایۂ دنیا رہا۔
چھوٹی سی عمر میں دنیا کے سبھی رنگ دیکھے،
خاک چھانی، تب کہیں جا کر مرا چرچا رہا۔
محنتوں سے نام پایا، سر بھی اونچا ہو گیا،
گھر کے اندر کرب لیکن خامشی سے پلتا رہا۔
ایک چاہت تھی جسے دل نے خدا جانا کبھی،
وہ کسی اور کے حصّے کا ہی لکھا رہا۔
جب ملا سب کچھ تو جیسے ہاتھ خالی رہ گئے،
زندگی کا خواب بھی آنکھوں میں ادھورا رہا۔
درد نے ہر موڑ پر مجھ کو سنبھالا اے دوست،
ورنہ ہر اک زخم دل کو توڑ کر بکھرا رہا۔
کہہ رہا مظہرؔ یہی افسانۂ ہستی کا حال،
سب کچھ اس دنیا میں پایا، پر نہ خود اپنا رہا۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






