غرورِ حسن میں شاہی جلال ہوتا ہے
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورغُرورِ حُسن میں شاہی جلال ہوتا ہے
پری رُخوں کا سبھی کچھ کمال ہوتا ہے
بدن بھی حشر بپا دَھڑکنوں میں کرتا ہے
پھر اُس پہ چلنا قیامت کی چال ہوتا ہے
پناہ بادلوں میں ڈُھونڈتا ہے ماہِ تمام
جو بے حجاب وُہ زُہرہ جمال ہوتا ہے
خدا ہی جانے اُسے چوم لیں تو پھر کیا ہو
جو گال نام سے بوسے کے لال ہوتا ہے
کسی شجر پہ پکے پھل نے مسکرا کے کہا
یہ عشق روزِ اَزل سے وَبال ہوتا ہے
وُہ اَپنے عاشقوں کا ، ذِکر چھیڑ دیتے ہیں
مرے فرار کا جب اِحتمال ہوتا ہے
وُفورِ آرزُو ، دَراَصل زِندگانی ہے
تمنا مرتی ہے تب اِنتقال ہوتا ہے
اَگر وُہ لب نظر آئیں تو زُلف بھی دیکھو
ہر ایک دانے پہ موجود جال ہوتا ہے
جو وَقتِ رُخصتِ محمل ، تھا حال مجنوں کا
کچھ ایسا حال مرا سارا سال ہوتا ہے
نگاہِ قیس سے دیکھو ، ہمیشہ لیلیٰ کو
صنم کسی کا بھی ہو ، بے مثال ہوتا ہے
شہزاد قیس کی کتاب "لیلٰی" سے انتخاب
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






