شکنجے ٹوٹ گئے ، ’’زخم‘‘ بدحواس ہوئے
Poet: شہزاد قیس By: Shahzad Qais, لاہورشِکنجے ٹُوٹ گئے ، ’’زَخم‘‘ بدحواس ہُوئے
سِتم کی حد ہے کہ اِہلِ سِتم اُداس ہُوئے
عُدو نے ایسا بہایا ، لہو کا سونامی
سفینے زِندہ دِلوں کے بھی ، غرقِ یاس ہُوئے
حساب کیجیے ، کتنا سِتم ہُوا ہو گا
کفن دَریدہ بدن ، زِندگی کی آس ہُوئے
کچھ ایسا مارا ہے شب خون ، اِبنِ صحرا نے
سمندَروں کے سَبُو پیاس ، پیاس ، پیاس ہُوئے
نجانے شیر کے بچے ، اُٹھا لیے کِس نے
یہ مُوئے شَہر جو ، جنگل کے آس پاس ہُوئے
خُدا پناہ! وُہ کڑوا خِطاب رات سُنا
کریلے نیم چڑھے ، باعثِ مِٹھاس ہُوئے
ہر ایک فیصلہ ، محفوظ کرنے والو سنو!
جھکے ترازُو ، شَبِ ظلم کی اَساس ہُوئے
گلابی غُنچوں کا موسم اُداس کرتا ہے
کچھ ایسے دِن تھے ، جب اُس گل سے رُوشناس ہُوئے
ہر ایک شخص کا ، سمجھوتہ اَپنے حال سے ہے
خوشی سے سانس اُکھڑنا تھا ، غم جو راس ہُوئے
قبائے زَخمِ بَدن ، اَوڑھ کر ہم اُٹھے قیس
جو شاد کام تھے ، مِحشَر میں بے لباس ہُوئے
شہزاد قیس کی کتاب "اِنقلاب" سے انتخاب
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






