عمر رفتہ کو آواز دے
Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Houston زرا عمر رفتہ کو آواز دے گل اندام کو پھر سے سنوار دے
سنا نغمہ بانکپن وہ ساز دلربا یہ ہاتھ تھام پھر میرا ساتھ دے
نہ چھوڑ اس دہر میں یوں تنہا سنہری یادوں کے صحرا میں اتار دے
جیا پھر سے ملن کو ترسے سکھیوں کو میرا یہ پیغام دے
وہ پنگھٹ پے ان کے ریلے وہیں وقت کو زرا کوئ روک دے
سکھیو ں کے سنگ یہ میلے نہ غم نہ کوئ ہم کو روگ دے
انمبوا کے پیڑ پے یہ جھولے زرا ٹھر جا ان کو آنے تو دے
آج برسے گی بدلی انکی اکھیوں سے میرے لئے اتھرو انکے گرنے تودے
یادوں کے گھونگھٹ اتار دے یا تھوڑا سا وقت مجھ کو ادھار دے
زرا عمر رفتہ کو پھر سے آواز دے دلہن کو پھر سے آج سنوار دے
ڈولی کب سے سج کے کھڑی میرے انتظار میں
پیا اب تو پیار سے زمیں کی گود میں اتار دے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






