عشق
Poet: ملک زین By: Malik zain, Gujratجب میرا اچھا کسی نے بھی نہیں چاہا
تو پھر کسی کا اچھا کیوں کروں میں
میرا بھلا تو کسی نے بھی نہیں کیا جب
تو کسی کا بھی بھلا کیوں کروں میں
جب زندگی کا کوئی بھروسہ ہی نہیں
تو وفاداری کا دعوا کیوں کروں میں
کتنا بڑا ہوا ہے نقسان میری زندگی میں
تو کسی کا بھی فائدہ کیوں کروں میں
کسی کو میری قدر نہیں یا خیال نہیں
تو ان سب کی پرواہ کیوں کروں میں
جب ان انسانوں نے ظلم کیا مجھ پر
تو ان انسانوں سے ملا کیوں کروں میں
اس دنیا و جہان سے بیزار ہو چکا ہوں
تو اس زندگی کی تمنا کیوں کروں میں
تم بھول جانے کا سوچتا تھا کے یاد آیا
کے اس قدر بڑی خطا کیوں کروں میں
مر کر ازایت ختم بھی تو کر سکتا ہوں
پر بات یہ ہے کے ایسا کیوں کروں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






