عشق کے زمانوں کی داستان
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryکاتب تقدیر سے روز مانگا ہے تجھے
اپنے هاته کی لکیروں میں بارہا کھوجا ہے تجھے
ہر لحظہ لگی ہے مجھے تیری ہی لو
کچھ ایسے خشو سے مانگاہے دعاوں میں تجهے
دنیا پوچھتی ہے یہ کیسی دیوانگی ہے میری؟
کون بتائے انهیں ہوش مجهے آیا ہے زمانوں کے بعد
اب ہے رقص میں ساری کائنات ہستی
ایسا جوبن مجھ پر آیا ہے زمانوں کے بعد
تھی تیری نظر میں کچھ ایسی تاثیر مسیحائی
قرار مجھے آیا ہے زمانوں کے بعد
یہ تیری رفاقت میں ملے ہیں جو تہمتوں کے انبار
سچ کہوں ! لطف آتا ہے ان میں بھی زمانوں کے بعد
اور یہ دستور رہا ہمیشہ سے حاکم وقت ک
کہ انارکلییاں چن دی جاتی ہیں دیواروں میں زندہ
ہم ہیں اس روش سے بخوبی واقف
اس لئے درگور ہوتے ہوئے بھی سکون آرہا ہے زمانوں کے بعد
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






