عرض
Poet: By: Naila Rani, Lahoreاک رسم حیا توڑ کر وہ ساری رسمیں نبھا رہا ہے
باغ سارا چھوڑ کر وہ باغیچہ سا اک بنا رہا ہے
گل ہیں اسمیں گلاب اسمیں نیا نیا سا سماں ہے
مگر وہ ساون ہے نہ برسات کا عالم آہ ۔۔!وبا ہے
جام ہے نہ ساقی اس میں اے خدا بتا وہ کیا ہے
لفظ لفظ غلط تھا اسکا وہ یہ بات بھی مانتا ہے
بنا کہ موم ساصنم نہ جانےکیوں وہ پو جتا ہے
بند کر کے گھر میں وہ اکثر یوں سوچتا ہے
تو نازک کلی ہےدل کی پھر مجھ سے بو لتا ہے
اک رسم حیا توڑ کر وہ ساری رسمیں نبھا رہا ہے
باغ سارا چھوڑ کر وہ باغیچہ سا اک بنا رہا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






