عجیب راز تھا مُجھ پر کبھی عیاں نہ ہُوا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiعجیب راز تھا مُجھ پر کبھی عیاں نہ ہُوا
کہ میرا گھر بھی جلا اور پِھر دُھواں نہ ہُوا
کمالِ ضبط ہے یا ہے کوئ یہ مجبوری
کہ مُجھ سے دَردِ محبت کبھی بیاں نہ ہُوا
محبتیں بھی نبھائیں جُدائ بھی دیکھی
وہ خُوشنصیب ہے پھر دَرد کی دُکاں نہ ہُوا
کہ میرا یار بھی مطلب پرست تھا شاید
وہ بعد میں جو کبھی مُجھ پہ مہرباں نہ ہُوا
کمال ضبط مُجھے تُو نے اے خُدا بخشا
سِتم اُٹھاتا رہا پھر بھی بدزُباں نہ ہُوا
وہاں وہاں پہ مِری شاعری کو پہنچاؤ
کہ میرے دَرد کا چرچا جہاں جہاں نہ ہُوا
وہ اِس طرح سے مُجھے چھوڑ کر گیا بـاقرؔ
کہ اُس کے لوٹ کے آنے کا پھر گُماں نہ ہُوا
وہ اُس جہان میں بـاقرؔ بنے گا کیا میرا
جو پاس رہتے ہوۓ میرا اِس جہاں نہ ہُوا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






