عجب ھیں میرے راستے،کہ چلنا بھی نھیں ممکن
Poet: MZ By: MZ, karachiعجب ھیں میرے راستے،کہ چلنا بھی نھیں ممکن
زرا ٹھوکر جو لگ جائےتو سمبھلنا بھی نھیں ممکن
تیرے چھرہ میری نظروں میں دھندلا نہ ھو جائے
کہ اب بھیگی ھوئی پلکھوں کو ملنا بھی نھیں ممکن
ملے ھیں بعد مدت کے، بلا کے سرد ھیں لھجے
کہ جلنا بھی نھیں ممکن، پگھلنا بھی نھیں ممکن
تعلق ٹوٹ جانے سے امیدیں ٹوٹ جاتی ھیں
دلوں میں حسرتیں لے کر بھلنا بھی نھیں ممکن
بھت ناکامیاں لے کر ھوا ھوں خاک کا قیدی
چلو اب آج سے گھر سے نکلنا بھی نھیں ممکن
اسے اتنا نہ سوچا کر تیری عادت نہ پڑھ جائے
جو ایسی عادتیں ھوں پھر انھیں بدلنا بھی نھیں ممکن
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







