عاشق تو ہم صرف نام کے تھے
Poet: عدیل اعوان By: عدیل اعوان, Islamabadمحبت حد ہے عقل اور ذہانت کی جانم
نہ کرتے خطا تو بندے ہم بھی کمال کے تھے
ایا جب وقت امتحان کا تو پتہ یہ چلا
عاشق تو ہم بس صرف نام کے تھے
نشے میں محبت کے چھوڑ دیے سب دوست
اترا جب سرور تو یاد ایا بندے بڑے کام کے تھے
ہو سکا نا کامیاب کسی بھی مرحلے میں
نتیجے یہ میرے سب برے اعمال کے تھے
کیا مجنوں کیا رانجھا سب ہوئے برباد عشق میں
بچ گیا کیسے! مرتکب تو ہم بھی برے انجام کے تھے
چپ چاپ نکلو یہ روگ نہیں تمہارے بس کا عدیل
عاشقوں کی محفل میں ِگلے تیرے نام کے تھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






