صدا
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiدیکھ فقیر نے صدا لگائی
تیرے دروازے پر مائی
کھول کے یہ اونچا دروازہ
آ، اک پَل کو باہر آجا
دُکھ اپنے خیرات میں دے دے
جھولی بھر، کشکول میں بھردے
اپنی آنکھ سے گرتی چاندی
لا، اس خالی ہاتھ پہ دھردے
سُونا پَن اس من کا سارا
سناٹا آنگن کا سارا
بھیک میں دے، صدقات میں دے دے
گھاؤ ذکات میں دے دے مائی
دیکھ فقیر نے صدا لگائی
چوکھٹ پہ رکھا ہے پیالا
اک آنسو تو نے نہ ڈالا
چل اب جلدی پیالا بھردے
موتی بھرے یہ نینا دھردے
ہاتھ میں جو پہنا ہے تو نے
ارمانوں کا گہنا دھر دے
بھیک نہ دے، چل سودا کرلے
ہاتھ بڑھا اور بدلہ کرلے
تھوڑے سے سکھ چین کی مالا
سپنوں سے رنگین یہ گُدڑی
کڑا یہ پریت کا چکر والا
ہے تیرے سودے کی کمائی
لے جا مائی، دے دے مائی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






