شام ہوتی رہی سائے ڈھلتے رہے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگشام ہوتی رہی سائے ڈھلتے رہے
بیٹھے چوکھٹ پہ ہم ہاتھ ملتے رہے
ہجر کی ظلمتوں میں میں ڈوبا رہا
دیپ یادوں کے سب یونہی جلتے رہے
جو بھی سوچا تھا کچھ وہ کہا نہ گیا
کتنے ارمان دِل میں مچلتے رہے
اپنا رستا نہ تھا اپنی منزل نہ تھی
آپ کی کھوج میں پھر بھی چلتے رہے
میرے حالات تھوڑے سے کیا ڈھل گئے
رنگ سارے جہاں کے بدلتے رہے
زندگی ایک ”ایسا تماشا“ بنی
دِل زمانے کے جس سے بہلتے رہے
تم سے دیپک زباں بھی نہ بدلی گئی
لوگ چہرے ہزاروں بدلتے رہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






