سود و زیاں
Poet: سید مجتبیٰ داودی By: Syed Mujtaba Daoodi, Karachiحسنِ فطرت کا انہیں منظر کہیں یا گلستاں
پھول تو ہوتے ہیں اپنے موسموں کا ترجماں
رات بھر کی شبنم افشانی تو ہے اک واقعہ
صبح کی کرنیں بنا دیتی ہیں اس کو داستاں
پر سکوں انداز میں ہر شے ہے گویا بے رموز
واد لیکن بے زبانی کی نہیں دیتی زباں
حشر کیا ہے رونمائی لمحہِ موجود کی
جو یہاں ہے حشر میں بھی ہے یہی سود و زیاں
یہ گراں کوہِ مسلسل اور یہ اونچے درخت
ہر بلندی کے لئے پستی ہے اک جائے اماں
وقت مشکل کوئی بھی تیرے قریب آیا نہیں
ایک ہی صف میں کھڑے تھے سب مراتب ناتماں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






