سنو اے مشرقی لڑکی۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillسنو اے مشرقی لڑکی
وفا تیرا حسیں گہنا
حیا تیری حنا بندی
سنو اے مشرقی لڑکی
تم اکثر خواب بوتی ہو
پھر ان خوابوں میں سوتی ہو
اور ان خوابوں ہی خوابوں میں
محبت کے گلابوں میں
نئی کرنیں پروتی ہو
کبھی ہنستی ہو کلیوں سا
کبھی چھپ چھپ کے روتی ہو
کبھی ٹھہراؤ کا عالم
کبھی بیتاب ہوتی ہو
یہ سارے رنگ ہیں تیرے
یہ سارے انگ ہیں تیرے
مگر یہ رنگ پھیکے ہیں
حیا سے ہیں اگر خالی
سنو اے مشرقی لڑکی
کبھی مغرب کو نہ تکنا
نہ بنیادوں کو ٹھکرانا
وہاں کے کھوکھلے رشتے
تقدس چھینن لیتے ہیں
نگاہوں کا، پناہوں کا
سمے کی چلتی راہوں کا
ثقافت کے لبادے میں
تمدن کے بکھیڑوں میں
ہوس کی راجداری ہے
عجب ہی کھیل جاری ہے
سنو اے مشرقی لڑکی
وفا تیرا حسیں گہنا
حیا تیری حنا بندی
آزادی سے کہیں بڑھ کر
حسیں ریتوں کی پابندی
سنو اے مشرقی لڑکی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






