سنبھلنے دے اے آسماں مجھے وہ راستہ بنا گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسنبھلنے دے اے آسماں مجھے وہ راستہ بنا گئے
کہاں پہ لے کے آگئی خودی وہ آئینہ دکھا گئے
وہی اداس روز و شب، وہی فسوں، وہی ہوا
امید وصل اشک بن کے ہر گھڑی دیا جلا گئے
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا
تلاش میں سحر کے ہوں یہ مسئلہ اٹھا گئے
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
کہ رسمی رابطہ رہا ہےسلسلہ جڑا گئے
ترے وصال کا زمانہ یاد آ یا بارہا
مخل ہوئے نہ آکے تمیہ تجربہ کیا ہوا گئے
گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک
میں خوش تمہاری جیت میں، میں قہقہہ لگا گئے
یہ کس خوشی کے موقعے پر غموں کی نیند آ گئی
خوشی کا چاند شام ہی سے جھلملا آ گئے
بڑے نصیب والے ہو کہ وہ تمہاری ہو گئی
کبھی نہ اپنے آپ کی ہو وشمہ دائرہ بنا گئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






