سنا ہے عام پتھروں کہ ساتھ گوہر ہوتے ہیں
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMسنا ہے عام پتھروں کےساتھ گوہر ہوتےہیں
بےحس دنیا میں کچھ لوگ وفا کہ پیکرہوتےہیں
خواب میں جب اسےسناتا ہوں اپنی تازہ غزل
صبح کئی پھول میرے بستر پر ہوتے ہیں
کسی چہرے کی شوخی پہ نا جانا دوستوں
ان کہ من میں کئی اجڑے کھنڈر ہوتےہیں
ایسےلوگوں پہ خدا کی رحمت برستی ہے
پیار ومحبت جن دلوں کےاندرہوتے ہے
بڑی سبق آموز شاعری کرنےلگےہو اصغر
تمہارے سبھی اشعار بڑے پر اثر ہوتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






