سرائے عشق میں رہا ہے ضابطہ بنا گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گئے
سرائے عشق میں رہا ہے ضابطہ بنا گئے
ذرا سی دیر میں محبتیں سبھی بدل گئیں
یہ کیا ہوا کہ ذہن و دل سے یہ مٹا گئے
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کیسی ہے یہ زندگی
صدائے دل عجیب ہے، یہ کیا ہوا یہ کیا گئے
تمہاری سمت میں چلی تو فاصلوں کی دوڑ میں
ہر ایک ایک راستہ تھا اک سے اک بڑھا گئے
یہ کس کے غم کی آنچ سے پگھل کے رہ گئی ہوں میں
کہ میں تو پانیوں پہ بھی تھا کوہ سا جما گئے
نئے چمن تلاش کر نئی بہار ڈھونڈ لے
جو اِس چمن پہ تیرا بس نہیں رہا سمجھا گئے
ہنر سخن وری کا یہ ہمیں بھی اب دکھا گئے
کمالِ فن د کھا ر ہے ہے وشمہ کو گرا گئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






