سخت مشکل ہے کہ یہ شام الم سے آگے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Kuala Lampurسخت مشکل ہے کہ یہ شام الم سے آگے
آزمانے کے لئے اس کے کرم سے آگے
کیسے تخلیق ہوئی، بعد اجل کیا ہو گا
ان سوالوں ہی سے سب دین و دھرم سے آگے
غلبہ تھا ذہن پہ رنگین سے کچھ خوابوں کا
عشق میں ڈوبے تو اب سارے بھرم سے آگے
کھائے ہیں اہل زباںخوف ستم گر کتنا
لب بھی خاموش ہیں، کاغذ نہ قلم سے آگے
ضد ہے اس یار کو ہرگز نہ اٹھائے گا نقاب
کھا کے دیدار کی پر ہم بھی قسم سے آگے
فخر سے قوت باطل کو کیا ہے مفلوج
جب ذرا سر پہ کفن باندھ کے ہم سے آگے
پلٹے اوراق ذرا آج جو کچھ ماضی کے
ہر ستم انکا ہے وشمہ ‘ دل پہ رقم سے آگے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






