ساتھ ہوں تیرے،کہاں تجھ سے جدا بیٹھی ہوں
Poet: طیبہ مرزا By: Tayyba Mirza, Kharianساتھ ہوں تیرے،کہاں تجھ سے جدا بیٹھی ہوں
اوڑھ کر میں تری یادوں کی قبا بیٹھی ہوں
اپنی پوشاک لگا یار مری آنکھوں سے
میں ترے ہجر میں بینائی گنوا بیٹھی ہوں
آپ اب بھی نہیں آئیں گے مرے حصے میں؟
دیکھیے اب تو میں خود کو بھی بھلا بیٹھی ہوں
وہ فسانہ جو کسی کو بھی سنانے کا نہ تھا
وجد میں آ کے تجھے وہ بھی سنا بیٹھی ہوں
اے شہِ عشق بتا ، کوئی تلافی ہے کیا ؟
بھولے سے نقشِ رخِ یار بھلا بیٹھی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






