زیب تن کر کے وہ جل تھل نہیں ہونے دیتے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابرگ گل بن کے ہی بغمل نہیں ہونے دیتے
تیری نظروں سے بھی اوجھل نہیں ہونے دیتے
جب بھی خطرہ ہوا لاحق تر ی سیماؤں کا
باندھ کر سر پہ کفن جل نہیں ہونے دیتے
روشنی دے نہ سکے چھینے غریبوں کے د ئے
بننا تھا نجم وہ اکمل نہیں ہونے دیتے
بستیاں چھان لیں انسان نہ پائے ہم نے
وفا کی راہ میں بے کل نہیں ہونے دیتے
گزرے کوچے سے ترے آج جو انجانے میں
وہ کسی اور کا پاگل نہیں ہونے دیتے
ہر قدم راہ سخن پر ملے ‘ استاد‘ ہمیں
ان سے کچھ سیکھتے وہ حل نہیں ہونے دیتے
تھا زمانے سے چھپانا ہمیں چہرہ وشمہ
زیب تن کر کے وہ جل تھل نہیں ہونے دیتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






