زندگی کو یوں بِتانا چاہیۓ
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالیزندگی کو یوں بِتانا چاہیۓ
ہر قدم پر مُسکرانہ چاہیۓ
ہر کسی کے لب پہ ہی تعریف ہو
کام ایسا کر دکھانا چاہیۓ
ہاں پرندے بھی تو ہیں خلقِ خدا
اُن کو بھی تو آشیانہ چاہیۓ
چاہے دِلشِکنی کِسی کی بھی ہو پر
بات کرنی منصفانہ چاہیۓ
وہ مری عادات سے واقف نہیں
کُچھ نہ کُچھ اُس کو بتانا چاہیۓ
قدر نا ہو دِل کے جذبوں کی جہاں
شہر ایسا چھوڑ جانا چاہیۓ
گر فقیری ہے تجھے مطلوب تو
میکدے میں آنا جانا چاہیۓ
میں ہوں شاعر اور لکھنی ہے غزل
مُجھ کو موسم عاشقانہ چاہیۓ
روٹھ جو محبوب باقرؔ جاۓ تو
اُس کو جلدی سے منانا چاہیۓ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






