زندگی ایسے پھنسی ہے الجھنوں کی قید میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلازندگی ایسے پھنسی ہے الجھنوں کی قید میں
جیسے اک مظلوم انساں دشمنوں کی قید میں
ہیں رواجوں میں گھری سہمی ہوئی سی لڑکیاں
جس طرح معصوم پنچھی ساحروں کی قید میں
جانے کب ویران گلشن میں بہاریں آٸیں گی
بارشِ رحمت ہے اب تک بادلوں کی قید میں
موت دے آزاد کر دے اب مجھے میرے خدا
زندگی کاٹی ہے اب تک بس غموں کی قید میں
دو دوانے پھر ہوٸے قربان راہِ عشق میں
پھر محبت مر گٸی ان سرحدوں کی قید میں
نرم و نازک تتلیوں کو دیکھ کر لگتا ہے ٰ یوں
رنگ ہیں قوسِ قزح کے تتلیوں کی قید میں
دے رہے ہیں آپ گمراہی کو آزادی کا نام
خوش ہوں میں خود ساختہ پابندیوں کی قید میں
اے یزیدوں بچ نہیں سکتے خدا کے قہر سے
حضرتِ زینب یہ بولیں کافروں کی قید میں
بولتا ہے آٸنہ سچ وشمہ یہ تسلیم کر
کٹ گئی تیری جوانی الجھنوں کی قید میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






