زندگانی سے مُکر جانے کو دل چاہتا ہے
Poet: محکم عابدی By: محکم عابدی , Bangaloreزندگانی سے مُکر جانے کو دل چاہتا ہے
بن کے اب خاک، بِکھر جانے کو دل چاہتا ہے
ہم جُدائی میں تری، کیسے جئیں گے جاناں
زخم ایسا ہے کہ مر جانے کو دل چاہتا ہے
میری آشفتہ سری کا بھی عجب ہے عالم
جو نہیں کرتے، وہ کر جانے کو دل چاہتا ہے
تھک گیا ہُوں میں خیالوں کا سفر کرتے ہُوئے
تیری یادوں میں ٹھہر جانے کو دل چاہتا ہے
بے خودی ایسی کہ خود پر بھی نہیں ہے قابو
حد ہے، حد سے بھی گُزر جانے کو دل چاہتا ہے
کِتنی دلکش ہیں یہ بھیگی ہوئیں آنکھیں تیری
بہتے دریا میں اُتر جانے کو دل چاہتا ہے
جانے یہ کونسی وادی ہے، زمیں پر جس کی
اپنے ہی خوں میں سنور جانے کو دل چاہتا ہے
آرزو اب ترے محکمؔ کو نہیں جینے کی
تیری آغوش میں مر جانے کو دل چاہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






