زمانے میں محبّت کی ایک داستان لکھنی ہے
Poet: ایچ ایم کاشف علی By: H M Kashif Ali, Lahoreزمانے میں محبّت کی ایک داستان لکھنی ہے
بڑی آباد بستی ہے جو ویران لکھنی ہے
جو ڈوبے ہیں صحراؤں میں۔ جو بھیگے ہیں ہواؤں میں
انہی مشہور لوگوں کی کہانی بےنام لکھنی ہے
خاموشی سے سبھی سہنا۔ زباں سے کچھ بھی نہ کہنا
ایسی نظروں کی زبان بے لگام لکھنی ہے
لکھنا ہے کے کچھ بھی ہو نہیں سکتا زمانے میں
جو ہوتی ہے محبّت بھی سبھی بدنام لکھنی ہے
سبھی مصرے ۔ سبھی فقرے ۔ سبھی باتیں تیری حافظ
جو لکھنی ہے کہانی بھی بس تیرے نام لکھنی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






