زمانہ گزرا ہے اپنا ہی آنے والا ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکسی کی یاد میں دنیا بھلانے والا ہوں
زمانہ گزرا ہے اپنا ہی آنے والا ہوں
بڑی عجیب خوشی ہے غم محبت بھی
ہنسی لبوں پہ مگر دل پہ کھانے والا ہوں
فلک پہ تاروں کی چاہت میں چل دیے لیکن
کچھ اور دیکھا نظارہ وہ لانے والا ہوں
تمام عمر میں گردِ رہِ سفر میں رہا
ملی نہ کوئی بھی منزل نہ جانے والا ہوں
نجانے عشق ہمیں اور کیا دکھائے گا
ابھی تو ہجر کا موسم اٹھانے والا ہوں
ابھی تو عشق کا باقی ہے امتحاں وشمہ
سرائے خواب میں کوئی اترنے والا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






