زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ
Poet: مہدی By: مہدی, Rawalpindiزخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ
پھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آ
مستی لئے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زلفیں
آ پھر مجھے دیوانہ بنانے کے لئے آ
اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میں
آ اے مرے محبوب ستانے کے لئے آ
آ رکھ دہن زخم پہ پھر انگلیاں اپنی
دل بانسری تیری ہے بجانے کے لئے آ
ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ
مانا کہ مرے گھر سے عداوت ہی تجھے ہے
رہنے کو نہ آ آگ لگانے کے لئے آ
پیارے تری صورت سے بھی اچھی ہے جو تصویر
میں نے تجھے رکھی ہے دکھانے کے لئے، آ
آشفتہ کہے ہے کوئی دیوانہ کہے ہے
میں کون ہوں دنیا کو بتانے کے لئے آ
کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیں
آ پھر کوئی الزام لگانے کے لئے آ
اب کے جو وہ آ جائے تو عاجزؔ اسے لے کر
محفل میں غزل اپنی سنانے کے لئے آ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






