رہینِ خوئے قناعت تھا وہ گدائی میں بھی
Poet: rehan abbas By: rehan , lahoreہم التزام کے عادی تھے آشنائی میں بھی
سو لطف آیا نہ دل کو تری رسائی میں بھی
وفا کے نام پہ ہم نے تو قید ہی کاٹی
کہ ایک ضبطِ مسلسل رہا جدائی میں بھی
میں دل کی انگلی کو تھامے خموش چلتا رہا
وہ لین دین کا قائل تھا آشنائی میں بھی
میں اپنے درد کی تشہیر کرتا رہتا ہوں
کہ ایک طرزفغاں ہے یہ بے نوائی میں بھی
بس ایک بار اسے پیار سے کوئی دیکھے
رہینِ خوئے قناعت تھا وہ گدائی میں بھی
ندامتوں میں گرا ہوں جھکا سا رہتا ہوں
کبھی تھا مجھ کو بہت زعم پارسائی میں بھی
وہ چھوڑ جائے مگر اس کو کوئی سمجھائے
کوئی سلیقہ تو ہوتا ہے بے وفائی میں بھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






