رکھتا ہوں۔۔۔
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreہر وقت جو ان آنکھوں میں، میں لالی رکھتا ہوں
تیرے غم کی سوغات ہے، جسے سنبھالی رکھتا ہوں
کبھی دیکھتا رہتا ہوں، رعنائیِ زندگی کے خواب
کبھی اعصاب پہ مسلط، خام خیالی رکھتا ہوں
تجھ سے مِل کے جدا ہونا، میری جان لے لیتا ہے
اسی لئے ملاقات کو میں، ٹالی رکھتا ہوں
تیرے بعد بھی پہروں ، تجھی کو سوچتا رہتا ہوں
تیری یاد سے گھر دل کا، نہ کبھی خالی رکھتا ہوں
کبھی شاعری کا زور، تو کبھی مے کشی کا دَور
بچھڑ کے تجھ سے، نئی راہ کوئی نکالی رکھتا ہوں
جان تک لٹا دیتا ہوں، کبھی ہنسی پہ کسی کی
بگڑ جاﺅں تو پھر لہجہ بھی، جلالی رکھتا ہوں
خفا ہو بھی جائے تو، میرے پاس ہی آتا ہے
محبت اس کے لئے جو حاوی، بے مثالی رکھتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






