روٹھا کچھ اس ادا سے کہ واپس مڑا نہیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiروٹھا کچھ اس ادا سے کہ واپس مڑا نہیں
میں ڈھونڈتا ہی رہ گیا مجھ کو ملا نہیں
یا تو ملا دے یار سے مجھ کو مرے خدا
یا تو تُو صاف کہہ دے میں تیرا خدا نہیں
یوں تو تمام عمر ہی کاٹی ہے ہجر میں
لیکن کیا بھی آج تک اس کا گلہ نہیں
حائل جو راہ میں ہوئ اتنی ہیں مشکلات
وہ لوٹ کر نہ آۓ تو اس کی خطا نہیں
وہ دور الفتوں سے رہے تو بھلا رہے
جس نے بھی درد آج سے پہلے سہا نہیں
یہ جھوٹ ہے ہمارے مراسم نہیں رہے
پر پہلا سا وہ الفتوں کا سلسلہ نہیں
میں جی رہا ہوں آج بھی اس کے ہی نام سے
کس نے کہا کہ وہ مرے دل میں رہا نہیں
باقرؔ ، برا ، بھلا میں اسے کیوں کہوں بھلا
وہ بےوفا سہی مگر دل کا برا نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






