رخ زلف میں بے نقاب دیکھا
Poet: مصحفی غلام ہمدانی By: Zaid, Islamabadرخ زلف میں بے نقاب دیکھا
میں تیرہ شب آفتاب دیکھا
محروم ہے نامہ دار دنیا
پانی سے تہی حباب دیکھا
سرخی سے ترے لبوں کی ہم نے
آتش کو میان آب دیکھا
قاصد کا سر آیا اس گلی سے
نامے کا مرے جواب دیکھا
جانا یہ ہم نے وفات کے بعد
دیکھا جو جہاں میں خواب دیکھا
آفت کا نشانہ ہو چکا تھا
میں دل کی طرف شتاب دیکھا
اک وضع نہیں مزاج معشوق
گہہ لطف و گہے عتاب دیکھا
آنکھوں سے بہاریں گزریں کیا کیا
کس کس کا نہ میں شباب دیکھا
کل مے کدے میں بغیر ساقی
اوندھا قدح شراب دیکھا
کیں اس نے جفائیں بے حسابی
اک دن نہ کبھو حساب دیکھا
سینے سے نکل پڑا نہ آخر
دل کا مرے اضطراب دیکھا
کیا ہوگی فلاح بعد مردن
جیتے تو سدا عذاب دیکھا
آبادی ہے اس کی مصحفیؔ کم
عالم کے تئیں خراب دیکھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






