رت
Poet: fauzia By: fauzia, rahim yar khanدیکھو دیکھو آگئی پھربہار کی رت
چھا گئی گلوں پہ نکھار کی رت
بیت گئے بدگمانیوں کے موسم کیسے
دل آنگن میں مہک رہی ہے اعتبار کی رت
پہنچ چکے انجام کو سبھی اندیشے
رہے گی مجھ میں تجھ میں باقی اعتماد کی رت
بے بسی اور مجبوری کا وقت بھی ٹلا
لگ گئی ہے ہمارے نام اختیار کی رت
یوں بھی ہوں برسات کی شدت سے منتظر
تنہا نہیں کٹے گی برکھا بہار کی رت
ہوا کے دوش پہ اڑتی خوشی کی سرگوشی
کہہ رہی ہے آنے والی ہے ملاقات کی رت
اب جارہے ہو تو لوٹ کے آؤ گے کب
میری قسمت نہ بنانا انتظار کی رت
آنکھ لگنے سے پہلے نیند کھلنے سے پہلے رہتی ہے اک سحر
کتنی شوخ ہے پہلے پہلے پیار کی رت
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






