ذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیا
Poet: اسامہ By: اسامہ, Sheikhupuraذرا سی بات کا دل کو ملال آ ہی گیا
لگی جو ٹھیس تو شیشے پہ بال آ ہی گیا
نہیں جو واقف تہذیب مے کدہ واعظ
زباں پہ ذکر حرام و حلال آ ہی گیا
پکڑ لیا مرے ہاتھوں کو اے خودی تو نے
ترا خیال جو وقت سوال آ ہی گیا
ہر ایک لمحہ اسی انتظار میں گزرا
خدا کا شکر پیام وصال آ ہی گیا
یقیں تھا وعدۂ فردا پہ آپ کے لیکن
گزشتہ وعدوں کا دل میں خیال آ ہی گیا
کچھ ایسا وقت بھی آیا مری خموشی پر
زباں سے موقعۂ اظہار حال آ ہی گیا
ہزار چاہا تھا میں نے عذاب سے بچنا
تعلقات کا سر پر وبال آ ہی گیا
یہ مانتا ہوں کہ بہزادؔ کچھ نہیں لیکن
تمہاری بزم میں یہ خستہ حال آ ہی گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






