دیکھ پورا ہو رہا ہے ایک ہو جانے کا خواب
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدیکھ پورا ہو رہا ہے ایک ہو جانے کا خواب
کون کہتا تھا مری خواہش کو دیوانے کا خواب
یوں تو اپنی دسترس میں ہیں منازل بھی مگر
ساری تعبیروں پہ بھاری اک ترے آنے کا خواب
زندگی شعلے کی تابانی سے ہٹ کر بھی تو ہے
موم کے آنسو کے نیچے دیکھ پروانے کا خواب
آرزو ایسی کہ ایسی۔ خوش گمانی الایماں
ہائے یہ تشنہ لبی آنکھوں میں پیمانے کا خواب
کب سے اپنی ذات میں رکھے ہوئے تھا بال و پر
شجر کی ہر شاخ پر رقصاں ہے لو دانے کا خواب
آج بھی حاصل متاع غیر ہے میرے لئے
آج بھی میرا مقدر ہے تجھے پانے کا خواب
دیکھنا اک دن بقا ڈھونڈے گی ان سے زندگی
قیس کا لاشہ پڑا ہے اور ویرانے کا خواب
پوچھئے مجھ سے کبھی اس شوق استغراق میں
کس کی آنکھوں میں سمٹ آیا تھا میخانے کا خواب
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






