دیکھا ہے اسے پہلی بار
Poet: اے بی شہزاد By: اے بی شہزاد, Mailsiدیکھا ہے پہلی بار اسے جب نقاب میں
ایسے لگا ہے چاند چھپا ہو شباب میں
تھا بے مثال حسن ادائیں کمال تھیں
آیا ہے رات مجھ کو ستانے وہ خواب میں
کہنے لگا محال ہے جینا بھی دوستا
غربت میں کٹ رہے ہیں یہ لمحے عذاب میں
شاید گئے ہو بھول نہج ناپ تول کے
گڑ بڑ لگی ہے آج تمھارے حساب میں
پھرتا ادھر ادھر ہے میسر نہیں سکوں
محبوب کی ہے آج طلب ماہتاب میں
آئی ہے ہاتھ دولتِ زر بھول سب گئے
وہ بات پہلے والی نہیں ہے جناب میں
شہزاد بے وفا نہیں ہوں میں یہی لکھا
اس نے تو میرے اس اسی خظ کے جواب میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






