دیکھا جو دور پیار کا اک آسماں الگ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلادیکھا جو دور پیار کا اک آسماں الگ
منزل کی سمت چل پڑا پھر کارواں الگ
میں نے بھی شہر شہر میں دیکھا ہے جابجا
دنیا کی ہر زباں سے ہے اردو زباں الگ
ویسے تو میری ذا ت کا حصہ ہے ایک شخص
پھر بھی وہ لکھ رہا ہے مری داستاں الگ
میدان کار زار میں دیکھا ہے ہر طرف
دشمن کے ہاتھ میں تو ہے تیغ و سناں الگ
دنیا میں ایک یہ مرے افکار ہی تو ہیں
رکھتے ہیں میری ذات کو جو جاواں الگ
اس زندگی کے روبرو دریائے عشق میں
دیکھی ہے میں نےجھومتی موجِ رواں الگ
وشمہ مرے خیال کیدنیا میں ہر جگہ
چمکی ہے تیرے پیار کی اک کہکشہاں الگ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






