دیامشاعرہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامنتظر ہوں میں تیری بر سوں سے
آشنا ہوں نہ شب کے رستوں میں
تیری باتوں پہ اعتبار کیا
بھول جانانہ آج وعدوں میں
تو محبت کی پھر گواہی دے
بھول کھلتے نہیں ہیں باتوں میں
زندگانی سے پیار کیا کرنا
کٹ ہی جائے گی تیری یادوں میں
محو حیرت سے دنگ رہتی ہوں
خشبو آتی ہے جب دریچوں میں
کیسے تجھ پہ بھی اعتبار کروں
سانپ ڈستے ہیں آستینوں میں
ان میں چاہت کے پھول زندہ ہیں
دوستی ہے مری کتابوں میں
سب کی پگڑی اچھال کر بھی یہاں
پیار کرتا ہے وہ حجابوں میں
جس کو پورا نہ کرسکے دنیا
خوف آتا ہے ایسے وعدوں میں
وشمہ رانی تو چھوڑ باتوں کو
آؤ چلتے ہیں اب ستاروں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






