دھرتی کی خاک میں
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGگردوں کی گردشوں میں کہیں کھو گیا ہوں میں
دھرتی کی خاک میں کہیں گم ہوگیا ہوں میں
لب ساحل کھڑا ہوں لیکن منزل ملے نہ مجھ کو
دلدل میں دھنس رہا ہوں کہ ساحل ملے نہ مجھ کو
شب غم نے آن گھیرا تلاش وصال میں
جانے کتنی صدیاں بیتیں اب ان ماہ و سال میں
خوابوں کو کھوجتا ہوں کہ ہوں دور منزلوں سے
منزل میری ہے لیکن کہیں دور ساحلوں سے
اک حاصل منزل چھوڑ آیا سپنوں کی تلاش میں
اپنی جنت کو بھول گیا اس سلسلہ معاش میں
بہت پیچ دار معاملہ ہے روزگار کا
نازک بہت ہے قیصر رشتہ اعتبار کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







