دھاگے
Poet: By: kanwalnaveed, Karachiہم بھی تو بس دھاگے ہیں
ہم بھی تو بس دھاگے ہیں
کبھی ہیں الجھے الجھے سے
کبھی ہیں سلجھے سلجھے سے
کبھی ہلکے ہیں کبھی گہرے ہیں
کبھی بند ڈبیا میں ٹھہرے ہیں
کچھ دلہن کو سجاتے ہیں
کچھ کفن میں سماتے ہیں
کچھ کھلے ہوئے کچھ کھچئے ہوئے
کچھ قدموں میں بچھئے ہوئے
کبھی تاج کے موتی میں پیوست سے
کبھی اونچے ہیں کچھ ہیں پست سے
کچھ اک ضرب سے ٹوٹ جاتے ہیں
کچھ ناکوں چنے چبواتے ہیں
یہ دھاگوں کی کہانی ہے
اک دھاگے کی زبانی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






