دل کے صحرا
Poet: فرید علوی By: Ghulam Farid, Karachiدل کے صحرا میں کوئی پھول کھلایا نہ گیا
درد ایسا تھا کہ ہنس کر بھی چھپایا نہ گیا
ہم نے ہر موڑ پہ چاہا تھا سہارا کوئی
اپنی قسمت سے مگر ہاتھ ملایا نہ گیا
رات آنکھوں میں کٹی، خواب بھی ٹوٹے سارے
دل کا ویران نگر پھر سے بسایا نہ گیا
جس کو اپنا سمجھا، وہی بیگانہ نکلا
زخم ایسا تھا کہ برسوں بھی بھلایا نہ گیا
ہم نے خاموشی کو سینے سے لگا رکھا تھا
حالِ دل پھر بھی زمانے سے چھپایا نہ گیا
وقت کے ساتھ سبھی لوگ بدل جاتے ہیں
دل کو یہ راز مگر پہلے بتایا نہ گیا
اب نا امیدی کے سائے ہیں ہر اک جانب علوی
کوئی امید کا جگنو بھی جلایا نہ گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






