دل کے دریا میں اتر کے دیکھو
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaدل کے دریا میں اتر کے دیکھو
تم محبت مجھ سے کر کے دیکھو
پھر تمہیں میری طلب ہو شاید
تم کبھی مجھ سے بچھڑ کے دیکھو
عشق کا ساگر بہت ہے گہرا
ڈوب کر خود بھی ابھر کے دیکھو
دنیا پھر لگنے لگے گی دلکش
اس کو میری نظر سے دیکھو
پیار کہتے ہیں کسے، ذرا تم
میری بانہوں میں بکھر کے دیکھو
میرا غم محسوس کرنا ہو تو
میری راہوں سے گزر کے دیکھو
کیا اثر ہوتا ہے بے رخی کا
میری چاہت سے مکر کے دیکھو
جو دیوانے نے ہے دیکھا، تم بھی
اس کی آنکھوں میں سنور کے دیکھو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







