دل تیرے پہ میں اپنا بسیرا چاہوں
Poet: ayesh By: ayesh, Peshawarدل تیرے پہ میں اپنا بسیرا چاہوں
تیری سوچ کے آنگن میں اترنا چاہوں
گیسوں کےسائےتلےقرب کااحساس لئے
سررکھ کہ تیری گودمیں سونا چاہوں
خواب تیرےدیکھتارہاہوں عمربھر
حقیقت میں تجھےچھوکہ دیکھناچاہوں
ہےگلاب چہرےپہ پھیلی ہوئی ویرانیاں
میں نوبہار میں اس کو بدلنا چاہوں
خیال یارسےکرتارہاباتیں تمام رات
کہ نہ پایاوہ بات جوکہناچاہوں
قدرت نےتمہیں سونپ تودیامجھکو
مرضی پھربھی تیری جانناچاہوں
تاحیات تیری یادمیں جیتارہاعائش
شانےپہ تیرےسررکھ کہ میں مرناچاہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






