دلاسا دے وگرنہ آنکھ کو گریہ پکڑ لے گا
Poet: حمزہ By: حمزہ, Tando Adamدلاسا دے وگرنہ آنکھ کو گریہ پکڑ لے گا
ترے جاتے ہی پھر مجھ کو غم دنیا پکڑ لے گا
سفر گو واپسی کا ہے مگر تو ساتھ رہ میرے
مجھے یہ خوف ہے مجھ کو مرا سایہ پکڑ لے گا
تو اپنے دل ہی دل میں بس مجھے آواز دیتا رہ
سماعت کو مری ورنہ یہ سناٹا پکڑ لے گا
نکلنا گھر سے باہر بھی علامت ہے تصادم کی
جسے تنہائی چھوڑے گی اسے خطرہ پکڑ لے گا
مرے کھوئے ہوئے لمحے کہیں سے ڈھونڈ کر لا دو
مگر ہشیار رہنا پاؤں کو رستہ پکڑ لے گا
اگر میں لوٹ جاؤں عشق سے پہلے کے عالم میں
تو اس کے قرب سے گزرا ہوا لمحہ پکڑ لے گا
تو خود بھی جاگتا رہ اور مجھ کو بھی جگاتا رہ
نہیں تو زندگی کو دوسرا قصہ پکڑ لے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






