دعوی عشق کرے مجھ سے، مگر پیار نہیں
Poet: Sajid Hadayat By: Sajid Hadayat, Lahoreدعویٰ عشق کرے مجھ سے، مگر پیار نہیں
یار ہے میرا، مگر میرا طرفدار نہیں
میں نے اشکوں سے وفاؤں کی لگائی قیمت
میں محبت ہوں، محبت کا خریدار نہیں
میں پجاری ہوں نہ معبد کی تمنا ہے مجھے
میں کسی بت کی محبت میں گرفتار نہیں
جانتا ہوں کہ ابھی دھوپ میں جلنا ہے مجھے
میرے رستے میں کوئی سایہ دیوار نہیں
خار دامن میں لئیے شوق سے آ سکتے ہو
اب یہاں کوئی بھی پھولوں کا پرستار نہیں
وہ مجھے چھوڑ کے جاتا ہے تو جائے ساجد
کیا کروں آج میں اپنا بھی طلبگار نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






