خیالوں کی چھایا ابھی سوچنا ہے
Poet: سید افتخار احمد رشکؔ By: سید افتخار احمد رشکؔ, Karachiخیالوں کی چھایا ابھی سوچنا ہے
صنم کوئی اپنا ابھی سوچنا ہے
ہزاروں کو مجھ سے محبت کا دعویٰ
کسوٹی پہ لانا ابھی سوچنا ہے
کسے پیار ہے اور پیکار کس کو
ہے کیسے جتانا ابھی سوچنا ہے
فضائیں مکدر ہوس اور ہوا سے
کہیں دل لگانا ابھی سوچنا ہے
ہزاروں ہی پھندے ہیں ہر اِک نَفَس میں
یہ جیون بِتانا ابھی سوچنا ہے
ہر اِک چاہتا ہے بس اپنی سنانا
کیا کہنا سنانا ابھی سوچنا ہے
غزل رشکؔ نے چند لمحوں میں کہہ دی
ملا مرتبہ کیا ابھی سوچنا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






