خد ا ر ا
Poet: Akram Durrani By: Akram Durrani, California - USAہو نٹوں کو سی کے ہم تو بیٹھے تھے خد ا را
د ل کی د ھڑ کن نے میر ی تمہیں پکا را تھا
جان لبو ں پے آ جائیگی یہ جا نتے ہوئےبھی
د ا نستہ ہم نے د ل میں تمہیں ا و تا ر ا تھا
محفل میں ا ک نگاہ آ رزو پہ و ہ بر ھم ہو گئے
جل کر ر ا ت بھر سا ری میں ہم نے جنھیں سنو ا را تھا
غیر وں پہ پیا ر د ر ا نی کو ا س و قت آ گیا
ا پنا بنا کر انھو ں نےجب ہمیں د ھتکا را تھا
نا کر دہ خطا کا جو ا ب سر با ز ار ما نگنے بیٹھ گئے و ہ
لبیجمبش نہ کر سکےکیو ں کے وعدےکا پا س ہمیں ہما ر ا تھا
لحد کا سفر کفن میں خو شگو ار کٹنا تھا ا س لئے
میت پہ چنو ں پہ با ر با ر نا م لیکر ھمیں پکا را تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






